ترکیہ میں چار سالہ ڈگری تین سال میں مکمل ہوگی: ترکیہ تعلیمی کونسل

3 ماہ قبل
ترکیہ میں چار سالہ ڈگری تین سال میں مکمل ہوگی: ترکیہ تعلیمی کونسل

استنبول( ترکیہ خبر)ترکیہ کی اعلی تعلیمی کونسل ملک کے تعلیمی نظام میں بڑی اصلاحات کے لیے ایک نئے ماڈل پر غور کر رہی ہے، جس کے تحت طلبہ کو چار سالہ انڈرگریجویٹ ڈگری تین سال میں مکمل کرنے کا موقع ملے گا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس سے تعلیمی معیار، کریڈٹس یا سیکھنے کے نتائج پر کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا۔اس اہم منصوبے کا اعلان YK کے صدر پروفیسر ایرول اوزوار نے فاطح سلطان محمد وقف یونیورسٹی میں سینیٹ اجلاس کے دوران کیا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ ماڈل جامعات کے ساتھ قریبی مشاورت کے ذریعے تیار کیا جا رہا ہے اور یہ ترکش ہائر ایجوکیشن وژن 2030 کے عین مطابق ہے۔پروفیسر اوزوار کے مطابق، نئے ماڈل میں طلبہ آٹھ سمسٹرز کو کم مدت میں مکمل کر سکیں گے، بغیر کسی کورس یا کریڈٹس کی کمی کے۔ ان کا کہنا تھا کہ مقصد وقت کے مثر استعمال کے ذریعے طلبہ کو جلد گریجویٹ کرانا ہے تاکہ وہ پیشہ ورانہ زندگی میں جلد قدم رکھ سکیں۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ ماڈل دنیا کے کئی ممالک میں پہلے سے رائج ہے اور ترکی کی کچھ فانڈیشن جامعات نے بھی ایسے تجرباتی نظام آزما چکے ہیں۔ اس سے نہ صرف طلبہ بلکہ جامعات کے لیے بھی مالی فوائد حاصل ہوں گے، کیونکہ طویل تعلیمی مدت کے اخراجات میں کمی آئے گی۔علاوہ ازیں، YK نے سیکنڈ شفٹ تعلیم کے خاتمے اور غیر مثر پروگرامز کے ختم کرنے کا بھی ذکر کیا تاکہ جامعات اپنے وسائل بہتر انداز میں منظم کر سکیں۔ قومی کامیابی درجہ بندی کے تحت داخلے اور شعبوں میں کوٹہ ایڈجسٹمنٹ بھی جاری رہے گی، خاص طور پر قانون، ڈینٹسٹری، فارمیسی، آرکیٹیکچر اور نفسیات جیسے شعبوں میں۔پروفیسر اوزوار نے طلبہ اور والدین کو مشورہ دیا کہ داخلوں کی تیاری کے دوران گزشتہ تین سے پانچ سال کے کوٹے، کامیابی رینکنگ اور داخلہ نمبرز کا بغور جائزہ لیں تاکہ بہتر فیصلے کیے جا سکیں۔تعلیمی اصلاحات میں مصنوعی ذہانت (AI) اور ٹیکنالوجی پر مبنی پروگرامز کی توسیع بھی شامل ہے، اور گزشتہ تین برسوں میں تقریبا 20 بین الشعبہ جاتی AI پروگرامز متعارف کرائے گئے ہیں، جن میں 13 انڈرگریجویٹ سطح پر ہیں اور یہ ترکی کی تقریبا 100 سرکاری جامعات میں پیش کیے جا رہے ہیں۔