استنبول( ترکیہ خبر) ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان نے ایران میں عام شہریوں کے مصائب پر گہرا دکھ اور افسوس ظاہر کیا اور کہا کہ ترکی امن کے قیام کے لیے جنگ بندی کے لیے سفارتی کوششیں تیز کرے گا۔صدر ایردوان نے انقرہ میں ایک تقریب کے دوران کہا، "ہم ایرانی عوام کے دکھ میں شریک ہیں۔ ہمیں یہ دیکھ کر شدید افسوس ہے کہ تنازع میں معصوم بچے اور عام شہری سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔"ایردوان نے وعدہ کیا کہ ترکی علاقائی سکون اور جنگ بندی کے قیام تک سفارتی رابطے تیز کرے گا۔ انہوں نے کہا، "ہم امن کے ساتھ ہیں، چاہتے ہیں کہ خونریزی رکے، آنسو ختم ہوں اور ہمارا خطہ وہ دیرینہ امن حاصل کرے جس کے لیے عرصہ دراز سے تڑپ رہا ہے۔"صدر نے واضح کیا کہ ترکی کی اولین ترجیح جنگ بندی کو یقینی بنانا اور مذاکرات کے دروازے کھولنا ہے۔ انہوں نے انتباہ دیا، "اگر ضروری مداخلت نہ کی گئی تو اس تنازع کے خطے اور عالمی سلامتی پر سنگین نتائج مرتب ہوں گے۔ کوئی بھی اقتصادی یا جغرافیائی عدم یقینی حالات برداشت نہیں کر سکتا۔ اسی لیے اس آگ کو مزید پھیلنے سے پہلے بجھانا ضروری ہے۔"ہفتے سے جاری امریکی اور اسرائیلی حملوں میں کئی اعلیٰ ایرانی عہدیدار ہلاک ہوئے، جن میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای بھی شامل ہیں۔تہران نے جواب میں خلیج کے ممالک میں امریکی مراکز کو نشانہ بنانے والے ڈرون اور میزائل حملے کیے، جن کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔ چار امریکی فوجی ہلاک اور چار دیگر شدید زخمی ہوئے۔ایران کے ریڈ کریسنٹ کے مطابق ہفتے سے اب تک امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد ۵۵۵ تک پہنچ گئی ہے۔
ایردوان کا ایران میں شہریوں کی شہاد ت پر دکھ اور افسوس کااظہار
1 ماہ قبل