انقرہ( ترکیہ خبر)شمالی بحرِ اوقیانوس کے معاہداتی اتحاد کی نائب سیکریٹری جنرل رادمِلا شیکرنسکا نے کہا ہے کہ آئندہ انقرہ سربراہی اجلاس میں رکن ممالک کو اپنے دفاعی وعدوں کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنا ہوگا تاکہ بدلتی ہوئی عالمی صورتحال کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔لتھوانیا میں اتحاد کی پارلیمانی اسمبلی کے بہاریہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چھ ہفتوں کے اندر رکن ممالک کے سربراہان انقرہ میں جمع ہوں گے، جہاں اتحاد کو درپیش چیلنجز اور مستقبل کی حکمتِ عملی پر اہم فیصلے کیے جائیں گے۔رادمِلا شیکرنسکا نے کہا کہ روس سے لاحق خطرات جنگ کے خاتمے کے بعد بھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوں گے، اس لیے اتحاد کو ہر وقت چوکس اور تیار رہنا ہوگا۔ ان کے مطابق موجودہ غیر یقینی اور پیچیدہ عالمی ماحول میں تمام رکن ممالک کو اپنی دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا ہوگا اور یہ کام باہمی تعاون کے ذریعے ہی ممکن ہے۔انہوں نے یاد دلایا کہ رکن ممالک 2035 تک اپنی مجموعی قومی پیداوار کا پانچ فیصد دفاع پر خرچ کرنے کے ہدف پر متفق ہو چکے ہیں۔ ان کے مطابق انقرہ اجلاس کا اہم مقصد دفاعی اخراجات کو عملی فوجی صلاحیتوں میں تبدیل کرنا ہوگا تاکہ اتحاد کی تیاری اور طاقت میں حقیقی اضافہ ہو سکے۔انہوں نے کہا کہ اتحاد کو دفاعی بوجھ کی منصفانہ تقسیم کے لیے زیادہ متوازن شراکت داری کی ضرورت ہے، کیونکہ امریکا اپنے اتحادیوں سے توقع رکھتا ہے کہ وہ یورپ کے روایتی دفاع میں زیادہ ذمہ داری سنبھالیں۔نائب سیکریٹری جنرل کا کہنا تھا کہ انقرہ اجلاس میں صرف دفاعی سرمایہ کاری ہی نہیں بلکہ جدید جنگی صلاحیتوں، تیز رفتار پیداوار اور دفاعی سازوسامان کی دستیابی پر بھی خصوصی توجہ دی جائے گی۔انہوں نے یوکرین کے مسئلے کو بھی اجلاس کی اہم ترجیحات میں شامل قرار دیتے ہوئے کہا کہ یوکرین کی سلامتی براہِ راست اتحاد کی سلامتی سے جڑی ہوئی ہے، اس لیے اس معاملے پر مشترکہ حکمتِ عملی اختیار کرنا ناگزیر ہے۔رادمِلا شیکرنسکا کے مطابق انقرہ اجلاس مستقبل کے دفاعی تقاضوں، علاقائی سلامتی اور رکن ممالک کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔