افغانستان میں ادویات کی قلت، سمگل شدہ دوا مریضوں کی زندگیوں کے لیے خطرہ قرار

3 ماہ قبل
افغانستان میں ادویات کی قلت، سمگل شدہ دوا مریضوں کی زندگیوں کے لیے خطرہ قرار

کابل( مانیٹرنگ ڈیسک) افغانستان میں ادویات کی شدید قلت کے باعث مریض سمگل شدہ ادویات استعمال کرنے پر مجبور ہیں، جس سے بچوں، حاملہ خواتین اور دیگر بیماریوں میں مبتلا افراد کی زندگیوں کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔افغان جریدے ہشتِ صبح کے مطابق طورخم بارڈر کی بندش اور پاکستان سے ادویات کی درآمد پر پابندی کے بعد غیر قانونی اور سمگل شدہ ادویات کی بھرمار ہو گئی ہے۔ یہ ادویات اب نہ صرف فارمیسیز بلکہ سڑک کنارے دکانوں پر بھی دستیاب ہیں۔ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ ان ادویات کے معیار کی جانچ کے لیے کوئی مثر نظام موجود نہیں، اور ذخیرہ کرنے کے حالات بھی طبی معیار کے مطابق نہیں ہیں، جس سے مریضوں کے علاج کی افادیت متاثر ہو رہی ہے۔ کابل کے رہائشیوں نے بتایا کہ اب ادویات پہلے جیسا اثر نہیں کرتیں اور بیماری کے ساتھ مالی دبا بھی بڑھ گیا ہے۔افغان میڈیا کے مطابق پاکستانی ادویات کی درآمد بند ہونے کے بعد غیر قانونی ادویات کی مانگ بڑھ گئی ہے، جس سے سمگلنگ میں بھی اضافہ ہوا۔ سمگل شدہ ادویات نسبتا سستی ہیں اور منافع زیادہ ہونے کی وجہ سے مارکیٹ میں عام ہو گئی ہیں، مگر معیار پر کوئی کنٹرول نہیں اور ذخیرہ کرنے کے مناسب انتظامات بھی موجود نہیں ہیں۔ بعض اوقات یہ ادویات شدید گرمی یا سردی میں کئی دن کنٹینرز میں پڑی رہتی ہیں، جس سے انہیں نقصان پہنچتا ہے، مگر پھر بھی فروخت ہو جاتی ہیں۔کشیدگی میں اضافے کے بعد پاکستان اور افغانستان کے درمیان طورخم بارڈر بند ہے، جبکہ افغان طالبان نے ادویات کی درآمد روکنے کا اعلان کیا ہے۔ اس کے بعد طالبان حکومت بھارتی اور ایرانی ادویات درآمد کرنے کی کوششیں کر رہی ہے، اور وزیر صحت اور نائب وزیر صحت نے اس سلسلے میں بھارت اور ایران کے دورے بھی کیے۔ماہرین کے مطابق سمگل شدہ ادویات زائد المیعاد یا غلط حالات میں رکھی جاتی ہیں، جس سے اثر نہ ہونے یا نقصان کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ بچوں، حاملہ خواتین اور دائمی بیماریوں میں مبتلا افراد سب سے زیادہ خطرے میں ہیں، اور اینٹی بایوٹکس کے بے قابو استعمال سے دواں کے خلاف مزاحمت بڑھنے کا خدشہ بھی ہے۔ اگر یہ رجحان جاری رہا تو افغانستان کو ایک بڑے عوامی صحت کے بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔