استنبول( ترکیہ خبر) ترکیہ، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، قطر، مصر، پاکستان، سعودی عرب اور اردن کے وزرائے خارجہ نے مسجد الاقصیٰ پر انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کے مسلسل حملوں اور اسرائیلی افواج کی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں کی سخت مذمت کی ہے۔مشترکہ بیان میں وزرائے خارجہ نے ان حملوں اور مسجد الاقصیٰ کے صحن میں اسرائیلی پرچم لہرانے کے واقعات کو بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مشرقی یروشلم کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔بیان میں کہا گیا کہ اسرائیل بطور قابض طاقت مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور مسلم و مسیحی مقدس مقامات کی حرمت کو نقصان پہنچانے کی منظم کوششیں کر رہا ہے، جس کی سختی سے مخالفت کی جاتی ہے۔وزرائے خارجہ نے واضح کیا کہ مسجد الاقصیٰ کے 144 دونم رقبے کو مکمل طور پر صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ تسلیم کیا جاتا ہے، اور اردن کی وزارت اوقاف کے تحت قائم القدس اوقاف و مسجد الاقصیٰ امور کا ادارہ ہی اس کے انتظام و انصرام کا واحد قانونی مجاز ادارہ ہے۔مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ ایسے اقدامات خطے میں کشیدگی بڑھاتے ہیں، انتہا پسندی کو ہوا دیتے ہیں اور امن کی عالمی کوششوں کو نقصان پہنچاتے ہیں، اس لیے فوری طور پر ان غیر قانونی کارروائیوں کو روکا جانا چاہیے۔وزرائے خارجہ نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ان کے حقِ خود ارادیت اور 1967 کی سرحدوں کے مطابق آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔بیان میں دو ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے حصول پر بھی زور دیا گیا۔