یو این اجلاس میں چین اور روس نے مادورو کی رہائی کا مطالبہ

2 ماہ قبل
یو این اجلاس میں چین اور روس نے مادورو کی رہائی کا مطالبہ

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) وینزویلا کے معاملے پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں چین اور روس نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا اور امریکی فوجی کارروائی کو اقوام متحدہ چارٹر کی خلاف ورزی قرار دیا۔اجلاس میں پاکستان کے قائم مقام مندوب عثمان جدون نے تنازع کو افہام و تفہیم کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا اور کہا کہ یکطرفہ فوجی کارروائی سے عالمی عدم استحکام میں اضافہ ہوگا۔ عثمان جدون نے مزید کہا کہ کیریبیئن میں تنا خطے اور عالمی امن کے لیے نقصان دہ ہے اور غیر متوقع نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے وینزویلا میں امریکی کارروائی پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ امریکی تحویل میں صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کی موجودگی عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے ریاستوں کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام پر زور دیا۔وینزویلا کے مندوب نے امریکی اقدام کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ صدر اور ان کی اہلیہ کو اغوا کیا گیا، شہری اور فوجی ہلاک ہوئے اور بنیادی انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا۔ انہوں نے عالمی قوانین کی پاسداری کی ضرورت پر زور دیا۔روسی مندوب نے امریکی کارروائی کی شدید مذمت کی اور کہا کہ مادورو اور ان کی اہلیہ کو فوری رہا کیا جائے، امریکا وینزویلا کے قدرتی وسائل پر قبضہ کرنا چاہتا ہے اور عالمی برادری کو اس کا مقابلہ کرنا ہوگا۔چینی مندوب نے بھی امریکا پر عالمی قوانین کی پاسداری اور یو این چارٹر کے احترام پر زور دیا، اور کہا کہ امریکا صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کی فوری حفاظت یقینی بنائے اور فوجی طاقت کو مسائل کے حل کے لیے استعمال نہ کرے۔امریکی مندوب نے کہا کہ امریکا نے سرجیکل آپریشن میں دہشت گرد مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کیا، اور اس کارروائی کا مقصد امریکی عوام کے تحفظ کو یقینی بنانا تھا۔