باکو / اقوام متحدہ( ترکیہ خبر) آذربائیجان کے صدر الہام علییف نے اقوام متحدہ کے ایشیا و بحرالکاہل کے لیے اقتصادی و سماجی کمیشن کے اکیاسی ویں اجلاس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ علاقائی تعاون، پائیدار ترقی اور بین الاقوامی شراکت داری موجودہ عالمی چیلنجز کے تناظر میں نہایت اہم حیثیت اختیار کر چکی ہے۔آذربائیجان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی اذرتاج کے مطابق صدر الہام علییف نے اپنے خطاب میں اس کمیشن کو اقوام متحدہ کے سب سے جامع اور مؤثر علاقائی پلیٹ فارمز میں سے ایک قرار دیا جو پائیدار ترقی، علاقائی رابطہ کاری، تجارت اور اقتصادی تعاون کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور تنازعات نے عالمی امن و سلامتی کو کمزور اور ترقیاتی کامیابیوں کو خطرے سے دوچار کر دیا ہے، اسی لیے آذربائیجان اقوام کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے اصولوں کی بھرپور حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔صدر علییف نے کہا کہ دو ہزار اکیس کے بعد جنوبی قفقاز میں نمایاں تبدیلیاں آئی ہیں، جہاں آذربائیجان نے اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت مکمل طور پر بحال کر لی ہے اور آرمینیا کے ساتھ امن عمل کا آغاز کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ سال واشنگٹن میں ہونے والی پیش رفت کے نتیجے میں دونوں ممالک کے تعلقات کی معمول پر واپسی کی سمت تاریخی پیش رفت ہوئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی روابط شروع ہو چکے ہیں جبکہ آذربائیجان نے آرمینیا کو ٹرانزٹ رسائی بھی فراہم کی ہے، اس کے علاوہ سول سوسائٹی کے تبادلے اعتماد سازی کے عمل کو مزید مضبوط بنا رہے ہیں۔صدر نے کہا کہ آذربائیجان آزاد کرائے گئے علاقوں میں بڑے پیمانے پر تعمیر نو کے منصوبے جاری رکھے ہوئے ہے جبکہ عظیم واپسی پروگرام کے تحت اب تک اسی ہزار سے زائد افراد کاراباخ اور مشرقی زنگزور کے علاقوں میں واپس جا چکے ہیں تاکہ وہ اپنی زندگیوں کی بحالی، تعلیم اور روزگار کا آغاز کر سکیں۔انہوں نے خبردار کیا کہ بارودی سرنگیں اب بھی ایک سنگین انسانی اور ترقیاتی مسئلہ ہیں جس کے باعث دو ہزار بیس کے بعد چار سو سے زائد شہری ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں۔صدر علییف نے کہا کہ آذربائیجان کی معیشت گزشتہ دو دہائیوں میں چار گنا بڑھ چکی ہے جبکہ غربت اور بے روزگاری کی شرح کم ہو کر تقریباً پانچ فیصد رہ گئی ہے۔ ان کے مطابق ملک میں سماجی تحفظ اور بنیادی ڈھانچے میں بڑی سرمایہ کاری کی گئی ہے جس سے ایک کروڑ سے زائد آبادی کے معیار زندگی میں بہتری آئی ہے۔انہوں نے کہا کہ آذربائیجان نے پائیدار ترقی کے اہداف کو قومی پالیسی میں شامل کیا ہے اور تعلیم، صحت اور غربت میں کمی کے شعبوں میں پیش رفت جاری ہے۔آخر میں انہوں نے کہا کہ آذربائیجان ایک اہم علاقائی رابطہ مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے جہاں وسطی راہداری کی اہمیت بڑھ رہی ہے جبکہ زنگزور راہداری ایشیا اور یورپ کو مزید قریب لانے میں اہم کردار ادا کرے گی جو اس کمیشن کے اہداف سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہے۔
آذربائیجان امن، ترقی اور علاقائی تعاون کا حامی ہے:صدر الہام علییف کا اقوام متحدہ اجلاس سے خطاب
واپس خبروں پر
Category:
آذر بائیجان