یمن میں خطرے کی گھنٹی، حضرموت اور المہرہ میں غیر قانونی فوجی کیمپ فوری خالی کرنے کا مطالبہ

3 ماہ قبل
یمن میں خطرے کی گھنٹی، حضرموت اور المہرہ میں غیر قانونی فوجی کیمپ فوری خالی کرنے کا مطالبہ

صنعا( مانیٹرنگ ڈیسک) یمنی پارلیمان نے حضرموت اور المہرہ میں تمام غیر قانونی فوجی سرگرمیوں کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کرتے ہوئے جنوبی عبوری کونسل کو ریاستی دائرہ اختیار سے باہر قائم کیے گئے تمام کیمپ خالی کرنے کا حکم دینے کا مطالبہ کیا ہے۔پارلیمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ عبوری کونسل کی حالیہ فوجی نقل و حرکت اور اقدامات تشویش ناک ہیں، جو نہ صرف امن و امان بلکہ سماجی ہم آہنگی کے لیے بھی سنگین خطرات پیدا کر رہے ہیں۔ پارلیمان نے صدارتی قیادت کونسل کے فیصلوں کی مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہوئے خبردار کیا کہ ایسے اقدامات کشیدگی میں مزید اضافے کا سبب بن سکتے ہیں۔بیان کے مطابق عبوری کونسل کی غیر قانونی کارروائیوں کے باعث امن عامہ متاثر ہوا، شہریوں کے حقوق مجروح ہوئے، ریاستی سول اور عسکری اداروں کو نشانہ بنایا گیا جبکہ نجی گھروں پر حملے، دیہات کا محاصرہ اور املاک کو نقصان پہنچنے جیسے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔یمنی پارلیمان نے واضح کیا کہ یہ تمام سرگرمیاں یمنی آئین، نافذ العمل قوانین اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں اور یہ ریاستی وحدت اور خودمختاری کے لیے براہ راست خطرہ تصور کی جاتی ہیں۔پارلیمان نے اس بات پر بھی شدید تشویش ظاہر کی کہ متحدہ عرب امارات کی فجیرہ بندرگاہ سے حضرموت کی مکلا بندرگاہ تک بغیر اجازت اسلحے کی کھیپیں پہنچائی جا رہی ہیں، جو ملکی خودمختاری کے خلاف ہے اور سکیورٹی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہیں۔بیان میں خبردار کیا گیا کہ اگر یہ اقدامات جاری رہے تو یمن کو مزید تقسیم، تشدد اور عدم استحکام کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جس کے اثرات سعودی عرب اور سلطنت عمان سمیت پورے خطے کے امن پر مرتب ہو سکتے ہیں۔پارلیمان نے کہا کہ بیرونی حمایت سے کیے جانے والے ایسے اقدامات ریاستی تعمیر کے بجائے سیاسی عمل کو نقصان پہنچاتے اور قومی مفاد کو شدید متاثر کرتے ہیں۔