تہران( مانیٹرنگ ڈیسک)خطے میں روایتی جنگ کے بعد اب جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ’سائبر وار فیئر‘ کا نیا محاذ کھل گیا ہے، جس میں گزشتہ 25 دنوں کے دوران جی پی ایس ڈیٹا پر ہزاروں حملے ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ان حملوں میں جیمنگ اور اسپوفنگ جیسی تکنیکیں استعمال کی جا رہی ہیں، جس سے جی پی ایس سگنلز متاثر ہو کر جنگی اور دفاعی مقاصد حاصل کیے جا رہے ہیں۔رپورٹس کے مطابق پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیدگی کے دوران بھی اس نوعیت کی سرگرمیاں دیکھی گئی تھیں، اور اب ایران کے گرد و نواح کے خطے میں بھی غیر معمولی صورتحال سامنے آ رہی ہے۔ فضائی اور بحری راستے استعمال کرنے والے ادارے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں، کیونکہ روزانہ درجنوں پروازیں اور بحری جہاز اپنے راستے سے بھٹک رہے ہیں۔ٹیکنالوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ ’’جیمنگ‘‘ کے ذریعے طاقتور الیکٹرو میگنیٹک شور پیدا کر کے جی پی ایس سگنلز کمزور یا معطل کیے جاتے ہیں، جبکہ ’’اسپوفنگ‘‘ کے ذریعے نیویگیشن سسٹمز کو دھوکہ دے کر غلط لوکیشن ظاہر کی جاتی ہے۔ اس کے نتیجے میں طیارے اور جہاز اپنی اصل سمت کھو سکتے ہیں، جو عالمی تجارت اور سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بن چکا ہے۔
خطے میں روایتی جنگ کے بعد اب جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ’سائبر وار فیئر‘ کا نیا محاذ کھل گیا
1 ہفتے قبل