کراچی (ہیلتھ ڈیسک) ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ غذائی فائبر صحت مند طرزِ زندگی کے لیے نہایت ضروری ہے، تاہم روزمرہ خوراک میں اس پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی جاتی۔ فائبر زیادہ تر نباتاتی غذاؤں میں پایا جاتا ہے اور نظامِ ہاضمہ کو درست رکھنے، خون میں شوگر کی سطح قابو میں رکھنے، دل کی صحت بہتر بنانے اور آنتوں میں مفید جراثیم کے توازن کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔اگرچہ سبزیاں، دالیں اور ثابت اناج فائبر کے اہم ذرائع سمجھے جاتے ہیں، لیکن پھل بھی فائبر حاصل کرنے کا ایک آسان، قدرتی اور ذائقہ دار ذریعہ ہیں۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق بعض پھل ایسے ہیں جو فائبر کی اچھی مقدار فراہم کر کے مجموعی صحت پر مثبت اثرات مرتب کرتے ہیں۔پیشن فروٹ کو فائبر سے بھرپور استوائی پھلوں میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں حل پذیر اور غیر حل پذیر دونوں اقسام کا فائبر موجود ہوتا ہے۔ اس کا استعمال ہاضمے کو بہتر بناتا ہے، آنتوں میں مفید بیکٹیریا کی نشوونما میں مدد دیتا ہے اور خون میں شوگر کی سطح کو متوازن رکھنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق 100 گرام پیشن فروٹ روزانہ فائبر کی ضرورت کا بڑا حصہ پورا کر سکتا ہے۔امرود بھی فائبر کے حوالے سے نہایت مفید پھل ہے۔ ہر 100 گرام امرود میں پانچ سے چھ گرام کے قریب فائبر پایا جاتا ہے، جو نظامِ ہاضمہ کی کارکردگی بہتر بنانے اور شوگر کی سطح کو قابو میں رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ اس کے بیج غیر حل پذیر فائبر فراہم کرتے ہیں، جو آنتوں کی حرکت کو باقاعدہ رکھنے کے لیے فائدہ مند سمجھے جاتے ہیں۔اسی طرح ناشپاتی میں بھی فائبر کی اچھی مقدار موجود ہوتی ہے، جس میں حل پذیر اور غیر حل پذیر دونوں اقسام شامل ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق پیکٹین سے بھرپور پھل آنتوں کی صحت کے لیے مؤثر ثابت ہوتے ہیں۔ چونکہ ناشپاتی کا زیادہ فائبر اس کے چھلکے میں پایا جاتا ہے، اس لیے اسے بغیر چھیلے کھانا زیادہ مفید قرار دیا جاتا ہے۔ متوازن غذا کے ساتھ ناشپاتی کا استعمال روزانہ فائبر کی ضرورت پوری کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔