واشنگٹن( ہیلتھ ڈیسک)امریکا میں وزن کم کرنے والی نئی دوا کی منظوری کے بعد فوڈ انڈسٹری میں نمایاں تبدیلیوں کا عمل شروع ہو گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق GLP-1 گروپ کی گولیاں اپنی سستی قیمت اور آسان استعمال کی وجہ سے انجیکشن کے مقابلے میں تیزی سے مقبول ہو رہی ہیں، جس کے باعث ان کے صارفین کی تعداد میں واضح اضافہ متوقع ہے۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق جنوری سے امریکا میں بھوک کم کرنے والی GLP-1 گولیوں کی دستیابی خوراک بنانے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات اور حکمتِ عملی پر نظرِ ثانی پر مجبور کر سکتی ہے، کیونکہ اب زیادہ افراد وزن گھٹانے کے لیے گولی کی صورت میں دوا کو ترجیح دے رہے ہیں۔امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کی جانب سے نووو نورڈسک کی ویگووی گولی کی منظوری کے بعد متعدد فوڈ کمپنیوں کے شیئرز میں کمی دیکھی گئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آئندہ برس ایلی للی کی متبادل دوا کی منظوری بھی متوقع ہے۔تحقیقی رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ GLP-1 ادویات استعمال کرنے والے افراد نمکین اسنیکس، بیکری مصنوعات، سافٹ ڈرنکس اور الکحل پر کم خرچ کرتے ہیں، جبکہ پروٹین اور فائبر سے بھرپور غذاوں کی جانب زیادہ توجہ دیتے ہیں، جو فوڈ مارکیٹ کے رجحانات کو بدلنے کا سبب بن رہا ہے۔