کراچی ( ہیلتھ ڈیسک)حالیہ طبی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ دنیا بھر میں 50 سال سے کم عمر افراد میں آنتوں کے کینسر کے مریضوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے اور گزشتہ چند برسوں کے دوران اس میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ماہرین صحت کے مطابق نوجوان افراد میں آنتوں کے کینسر کی تشخیص کی شرح میں تقریبا 20 فیصد تک اضافہ دیکھا گیا ہے جس کے بعد یہ جاننے کی کوششیں تیز ہو گئی ہیں کہ ایسے کون سے عوامل ہیں جو اس بیماری کے خطرے کو کم کر سکتے ہیں۔طبی ماہرین کی تازہ رپورٹ کے مطابق دہی کو روزمرہ خوراک کا حصہ بنانے سے آنتوں کے کینسر سے بچا میں مدد مل سکتی ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ دہی میں موجود قدرتی بیکٹیریا نظامِ ہاضمہ کو متوازن رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ان بیکٹیریا کی موجودگی معدے اور آنتوں میں ایسے ماحول کو فروغ دیتی ہے جو جسم کے مدافعتی نظام کو مضبوط بناتا ہے اور سوزش کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق مسلسل سوزش کو کینسر کے بڑھتے ہوئے خطرے سے جوڑا جاتا ہے۔تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ دہی میں موجود زندہ بیکٹیریا معدے کے اندر فائدہ مند جراثیم کا توازن برقرار رکھتے ہیں جس سے نہ صرف ہاضمہ بہتر ہوتا ہے بلکہ جسم مجموعی طور پر زیادہ صحت مند رہتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ متوازن غذا کے ساتھ دہی کا استعمال نوجوانوں سمیت ہر عمر کے افراد کے لیے مفید ثابت ہو سکتا ہے اور آنتوں کے کینسر کے خدشات کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔