پنجاب اسمبلی کے تقدس کو پامال کرنے کی کسی کو اجازت نہیںدینگے:سپیکر پنجاب اسمبلی

3 ماہ قبل
پنجاب اسمبلی کے تقدس کو پامال کرنے کی کسی کو اجازت نہیںدینگے:سپیکر پنجاب اسمبلی

لاہور( ترکیہ خبر) سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا سے آنے والے افراد کے طرزِ عمل نے ذہنی پستی کی عکاسی کی، جو جماعت مقدس مقامات کا احترام نہ کرے وہ پنجاب اسمبلی جیسے ادارے کا کیا احترام کرے گی۔ کسی کو یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ میرے گھر کو آگ لگا کر اسے اپنا سیاسی حق قرار دے۔لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ ایوان میں ہر قسم کی سرگرمی قوانین اور قواعد کے تحت ہوتی ہے، اسمبلی کی کارروائی رولز کے مطابق چلائی جاتی ہے اور حکومت و اپوزیشن دونوں کے ساتھ یکساں سلوک کیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ کی آمد پر خوشی ہوئی، تاہم یہ بتایا گیا تھا کہ سہیل آفریدی اسمبلی میں تنظیمی سرگرمی کرنا چاہتے ہیں، جس کے لیے باقاعدہ اجازت نامہ درکار ہوتا ہے۔ پنجاب اسمبلی ریڈ زون میں واقع ہے جہاں سکیورٹی پیرامیٹرز لاگو ہوتے ہیں، سیاسی جماعتوں کے درمیان رابطے ہونے چاہئیں اور ان کی جڑیں پورے ملک میں ہونی چاہئیں تاکہ وفاق مضبوط ہو۔سپیکر پنجاب اسمبلی کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا اسمبلی میں جتھوں کی صورت میں داخلہ معمول سمجھا جاتا ہے، وہاں خواتین کے ساتھ بھی نامناسب رویوں کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں۔ کل مجھ سے سوال کیا گیا کہ وزیراعلیٰ کے پی پنجاب اسمبلی آئے تو وہاں کیا واقعہ پیش آیا۔انہوں نے بتایا کہ سہیل آفریدی کے ساتھ ایسے افراد آئے جو گھیراؤ جلاؤ کے مقدمات میں نامزد رہے، بعض سزا یافتہ افراد کو بھی اسمبلی لایا گیا، جبکہ کئی افراد کے پاس اجازت نامے اور شناختی کارڈ تک موجود نہیں تھے۔ ایسی صورتحال میں اسمبلی کے تقدس پر سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ملک محمد احمد خان نے کہا کہ ہم اسمبلی کو جمہوریت کا مقدس مرکز سمجھتے ہیں، یہاں وزیراعلیٰ مریم نواز کے خلاف انتہائی نامناسب زبان استعمال کی گئی، خیبرپختونخوا سے آنے والے افراد نے اپنے رویے سے منفی ذہنیت ظاہر کی۔انہوں نے کہا کہ بطور سپیکر ان کا کام سیاسی بیان بازی نہیں بلکہ حقائق کو عوام کے سامنے لانا ہے، اسی لیے واقعے کی تحقیقات کے لیے ہائی پاور انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی، جبکہ پنجاب اسمبلی کے تمام حصے سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے مانیٹر ہوتے ہیں۔سپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ اسمبلی کی حفاظت کے لیے سخت سکیورٹی اقدامات اور ایس او پیز نافذ ہیں، ہر فرد کو اسمبلی کی حدود کے تقدس کا خیال رکھنا ہوگا، کسی کو یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ من مانی کرے۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی ہر معاملے میں یہ مؤقف اپناتی ہے کہ ان کا لیڈر گرفتار ہے، تاہم بانی پر درج مقدمات عام نوعیت کے نہیں، دنیا میں کہیں مثال نہیں ملتی کہ ایک ہی دن میں متعدد فوجی تنصیبات پر حملے کیے جائیں اور سیاسی دفاتر کو نذر آتش کر کے اسے عوامی ردعمل کہا جائے، 9 مئی ایک منظم منصوبہ تھا۔سپیکر پنجاب اسمبلی نے مزید کہا کہ افواجِ پاکستان ہمارا فخر ہیں، کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ اس فخر کو نقصان پہنچائے، کسی بھی ملک کی افواج اس کی پہچان ہوتی ہیں، کسی کو یہ اجازت نہیں کہ وہ آگ لگا کر اسے سیاسی حق قرار دے، یہی طرزِ فکر بیرونِ ملک مقدس مقامات پر بھی نظر آیا۔