آسٹریلیا سے پناہ لینے والی ایرانی خواتین فٹبالر نے واپس جانے کی درخواست کر دی

3 ہفتے قبل
آسٹریلیا سے پناہ لینے والی ایرانی خواتین فٹبالر نے واپس جانے کی درخواست کر دی

استنبول ( سپورٹس ڈیسک) ایران کی خواتین قومی فٹبال ٹیم کی سات رکن خواتین میں سے ایک، جنہیں آسٹریلوی حکومت نے پناہ دینے کا حق دیا تھا، نے اپنا فیصلہ بدل دیا اور ایران واپس جانے کی درخواست کی ہے، یہ خبر آسٹریلین براڈکاسٹنگ کارپوریشن (ABC) نے بدھ کو دی۔ہوم افیئرز کے وزیر ٹونی برک نے اس پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اس کھلاڑی نے ایرانی سفارتخانے کے اہلکاروں سے رابطہ کیا، جنہوں نے اسے اس ہوٹل سے لے لیا جہاں وہ دیگر ٹیم ممبران کے ساتھ رہ رہی تھی، جو آسٹریلیا میں رہنے کا فیصلہ کر چکے ہیں۔وزیر نے مزید کہا کہ اہلکاروں نے کھلاڑی سے بات کی تاکہ یہ تصدیق ہو سکے کہ فیصلہ اس کا اپنا ہے اور اس سے ہر ممکن سوال پوچھا گیا۔ انہوں نے باقی ٹیم کے ارکان کو بھی منتقل کرنے کی ہدایت دی تاکہ ایرانی سفارتخانے کو ان کے ٹھکانے کا علم نہ ہو۔ایران کے فٹبال فیڈریشن کے صدر کا کہنا تھا کہ آسٹریلیا نے خواتین قومی ٹیم کے ارکان کو پناہ لینے پر مجبور کیا۔یاد رہے کہ پناہ کے ویزے منگل کو جاری کیے گئے تھے، ایک دن بعد کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آسٹریلیا پر زور دیا تھا کہ وہ ایرانی خواتین فٹبال ٹیم کے ارکان کو پناہ دے، کیونکہ اگر وہ واپس ایران جائیں تو انہیں سنگین خطرات کا سامنا ہو سکتا ہے۔