لاہور(ترکیہ خبر) پاکستان میں پٹرول کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد فی لیٹر قیمت 322 روپے سے تجاوز کر گئی ہے، جس کے بعد عوام میں یہ سوال شدت اختیار کر گیا ہے کہ ایک لیٹر پیٹرول کی اصل لاگت کتنی ہے اور حکومت کو اس میں سے کتنی آمدن حاصل ہوتی ہے۔حکومت کے ٹیکس اور لیوی تقریباً 95 روپے فی لیٹر بنتی ہیں، جبکہ آئل مارکیٹنگ کمپنی کا مارجن تقریباً 7.87 روپے، پٹرول پمپ ڈیلر کمیشن تقریباً 8.64 روپے، اور ترسیلی اخراجات و ان لینڈ فریٹ مارجن تقریباً 8 سے 10 روپے بنتا ہے۔ماہرین کے مطابق اس تقسیم سے ظاہر ہوتا ہے کہ قیمت میں سب سے زیادہ حصہ ٹیکس اور لیوی کا ہے، جبکہ مارکیٹ کے دیگر کھلاڑیوں کا حصہ نسبتا کم ہے۔