وزیراعظم نے برآمدات بڑھانے کیلئے تین کمیٹیاں بنائیں

2 ماہ قبل
وزیراعظم نے برآمدات بڑھانے کیلئے تین کمیٹیاں بنائیں

اسلام آباد( کامرس ڈیسک) وزیراعظم شہباز شریف نے آئی ایم ایف پر انحصار کم کرنے اور برآمدات پر مبنی معیشت کے فروغ کے لیے تین اہم کمیٹیاں تشکیل دی ہیں۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب معاشی گروتھ کیلئے قائم گورننس کمیٹی کی قیادت کر رہے ہیں، وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال برآمدات اور ایف بی آر کی ٹیکس آمدن بڑھانے کی کمیٹی کی سربراہی سنبھالے ہوئے ہیں، جبکہ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ لیگل کمیٹی کی قیادت کر رہے ہیں تاکہ فیٹف اہداف کے مطابق اقدامات کیے جا سکیں۔وزارت منصوبہ بندی کی رپورٹ میں برآمدات بڑھانے کے لیے درپیش سنگین چیلنجز کی نشاندہی کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کی برآمدی مسابقت مسلسل دباؤ میں ہے اور مہنگی توانائی، پیچیدہ ٹیکس نظام، پالیسی عدم تسلسل اور ریگولیٹری بوجھ سب سے بڑی رکاوٹیں ہیں۔ توانائی کی بلند اور غیر مستحکم قیمتیں صنعتوں کی پیداواری لاگت میں اضافہ کر رہی ہیں، جس سے مینوفیکچرنگ، زرعی پراسیسنگ، معدنیات، ماہی گیری اور خدمات کے شعبے متاثر ہو رہے ہیں اور برآمدی آرڈرز دیگر ممالک کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔مزید برآں، کاروبار کی مجموعی لاگت بھی غیر معمولی طور پر زیادہ ہے، جس کی وجہ پیچیدہ ٹیکس نظام، ٹیرف سٹرکچر، ایڈوانس انکم ٹیکس کٹوتیاں، سیلز ٹیکس ریفنڈ میں تاخیر اور ورکنگ کیپٹل کا پھنس جانا ہے۔ یہ مسائل خاص طور پر چھوٹے اور درمیانے درجے کے برآمد کنندگان کیلئے سنگین مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔رپورٹ میں پالیسی کے عدم تسلسل کو سرمایہ کاری اور خریداروں کے اعتماد کیلئے نقصان دہ قرار دیا گیا ہے۔ ٹیکس، توانائی نرخ، ٹیرف ڈھانچے اور برآمدی مراعات میں بار بار تبدیلیاں پیداوار، منصوبہ بندی اور برآمدی آرڈرز پر منفی اثر ڈال رہی ہیں۔ ادارہ جاتی بکھراؤ، ریگولیٹری بوجھ، سستی مالی سہولتوں تک محدود رسائی اور بلند شرح سود بھی برآمدی شعبے کی ترقی میں رکاوٹیں ہیں۔لاجسٹکس اور تجارتی سہولت کاری کی رکاوٹیں بھی برآمدات میں اضافے کے لیے چیلنجز کے طور پر سامنے آئی ہیں، جس پر کمیٹیوں کے ذریعے جلدی قابو پانے کے اقدامات کیے جائیں گے۔