مشرق وسطیٰ کشیدگی: اسٹاک مارکیٹس کریش، تیل مہنگا، عالمی معیشت خطرے میں

1 ہفتے قبل
مشرق وسطیٰ کشیدگی: اسٹاک مارکیٹس کریش، تیل مہنگا، عالمی معیشت خطرے میں

انقرہ( کامرس ڈیسک)مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے باعث عالمی مالیاتی منڈیوں میں شدید مندی اور تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس سے عالمی معیشت کو سنگین خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی قیادت کے درمیان آبنائے ہرمز کے معاملے پر دھمکیوں کے تبادلے کے بعد عالمی مارکیٹس دباؤ کا شکار ہو گئیں، جبکہ اسرائیل نے عندیہ دیا ہے کہ خطے میں جنگ مزید کئی ہفتوں تک جاری رہ سکتی ہے۔جنگ چوتھے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے اور اس کے خاتمے کے آثار دکھائی نہیں دے رہے۔ بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ دنیا کو کئی دہائیوں کے بدترین توانائی بحران کا سامنا ہو سکتا ہے، جو عالمی معیشت کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ماہرین کے مطابق مہنگائی میں اضافے کا خدشہ ہے، جس کے باعث مرکزی بینک شرح سود بڑھا سکتے ہیں، جبکہ کھاد کی ترسیل متاثر ہونے سے عالمی غذائی تحفظ بھی خطرے میں پڑ سکتا ہے۔کشیدگی کے اثرات سے سیئول اور ٹوکیو کی اسٹاک مارکیٹس شدید متاثر ہوئیں، جہاں ایک موقع پر بالترتیب 6 اور 5 فیصد تک کمی دیکھی گئی۔ ہانگ کانگ میں 3 فیصد سے زائد جبکہ شنگھائی، تائی پے اور منیلا میں بھی 2 فیصد سے زیادہ مندی ریکارڈ کی گئی۔اسی طرح سڈنی، سنگاپور اور ویلنگٹن کی مارکیٹس بھی دباؤ کا شکار رہیں، جبکہ جنوبی کوریا کی کرنسی وون کمزور ہو کر 1,510 فی ڈالر کی سطح تک گر گئی، جو 2009 کے بعد اس کی کم ترین سطح ہے۔