مڈل کوریڈور کے ذریعے تجارت میں تیزی، 2030 تک مال برداری تین گنا بڑھنے کی توقع

2 ماہ قبل
مڈل کوریڈور کے ذریعے تجارت میں تیزی، 2030 تک مال برداری تین گنا بڑھنے کی توقع

ویانا ( کامرس ڈیسک)انٹرنیشنل روڈ ٹرانسپورٹ یونین کے سیکریٹری جنرل اومبرٹو دے پریٹو نے کہا ہے کہ مڈل کوریڈور کے ذریعے تجارت تیزی سے بڑھ رہی ہے اور 2030 تک مال برداری کے حجم میں تین گنا اضافہ متوقع ہے۔ یہ بات انہوں نے ترکیک ویک کے موقع پر ویانا میں ترک ریاستوں کی تنظیم اور یورپ میں سکیورٹی اور تعاون کی تنظیم (OSCE) کی مشترکہ تقریب میں کہی۔اومبرٹو دے پریٹو نے خبردار کیا کہ "اگر کوریڈور میں بہتری نہ کی گئی، بشمول سرحدی گزرگاہوں کے طریقہ کار، تو ٹرانسپورٹ کی طلب متوقع ترقی سے 35 فیصد کمرہ جائے گی۔ ہم مڈل کوریڈور کو مضبوط بنانے پر کام کر رہے ہیں، جس کے لیے سہولت، پیش گوئی اور تعاون ضروری ہے۔"انہوں نے TIR نظام کی اہمیت پر بھی زور دیا، جو کہ عالمی سطح پر تسلیم شدہ فریم ورک ہے اور کسٹمز کنٹرولز، بین الاقوامی ضمانت، اور محفوظ مال برداری کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ TIR کے ذریعے فزیکل انسپیکشن، دستاویزات کی نقل، اور آپریٹرز کے لیے غیر یقینی صورتحال کم ہوتی ہے، جس کی وجہ سے یہ مڈل کوریڈور جیسے بین الاقوامی راستوں کے لیے بہترین ہے۔اومبرٹو دے پریٹو نے بتایا کہ TIR اب چین کو یوریشیا کے 30 سے زائد ممالک سے جوڑتا ہے، جس سے مال کی ترسیل کے وقت میں 80% اور لاگت میں 50% کمی آئی ہے۔ انہوں نے سرحدی چیک پوسٹس پر TIR گرین لینزکی بڑھتی ہوئی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی، جو قانونی TIR ٹرکوں کو ترجیحی گزرگاہ، تیز سرحدی کارروائی، اور متوقع ترسیل کے اوقات فراہم کرتی ہیں۔تمام وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ ساتھ رومانیہ، مالڈووا، چین، منگولیا اور سعودی عرب نے TIR کے لیے ترجیحی لین یا ونڈو متعارف کرایا ہے۔ اومبرٹو دے پریٹو نے واضح کیا کہ "گرین لینز کسی رعایت کے طور پر نہیں ہیں، بلکہ یہ تعاون اور شفافیت کے لیے ایک حوصلہ افزائی ہیں۔"