باکو( کامرس ڈیسک) آذربائیجان کے وزیرِ توانائی پرویز شہبازوف اور بیلجیم کے سابق وزیرِاعظم ایو لیترم کی قیادت میں آنے والے وفد کے درمیان ملاقات ہوئی جس میں قابلِ تجدید توانائی منصوبوں کے نفاذ اور برآمد کے امکانات پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔آذربائیجان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی آذرتاج کے مطابق ملاقات میں بیلجیم کی کمپنی ڈبلیو کراخت کے نمائندے بھی شریک تھے، جو بیلجیم میں زمینی ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں کی تیاری میں مہارت رکھتی ہے۔ گفتگو کے دوران آذربائیجان میں قابلِ تجدید توانائی منصوبوں کے نفاذ اور انہیں بیرونی منڈیوں تک برآمد کرنے کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ خطے میں استحکام اور تعمیری تعاون کے فروغ میں آذربائیجان اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ اس تناظر میں ملک کی توانائی پالیسی، خصوصاً قابلِ تجدید توانائی کے ذرائع کی ترقی اور توانائی راہداریوں کے قیام نے بین الاقوامی شراکت داروں کی توجہ حاصل کی ہے۔ملاقات کے دوران بتایا گیا کہ اس وقت آذربائیجان میں ہوا اور شمسی توانائی پر مبنی بجلی گھروں کے11 منصوبوں پر کام جاری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بجلی کے نظام میں نئی پیداواری صلاحیت کو شامل کرنے کے امکانات کے جائزے کے لیے بجلی کے قومی جال کا خصوصی مطالعہ بھی کیا جا رہا ہے۔شرکاء کو یہ بھی بتایا گیا کہ مستقبل میں ڈیٹا مراکز کے قیام کے منصوبے زیر غور ہیں جن سے بجلی کی طلب میں اضافہ ہوگا، جبکہ یورپ کو بجلی کی برآمد کے لیے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں پر بھی کام جاری ہے۔ اس سلسلے میں 2032سے مشرقی یورپ کے ساتھ بجلی کے رابطے کے قیام کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔اس موقع پر آذربائیجان نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ یورپی کمپنیاں ملک میں توانائی پیدا کرنے کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کریں اور بعد ازاں اس توانائی کو مشرقی یورپ کی منڈیوں میں فروخت کریں۔گفتگو کے اختتام پر دونوں فریقین نے قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں تعاون کے امکانات پر مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
آذربائیجان اور بیلجیم کے درمیان قابلِ تجدید توانائی تعاون پر اتفاق
3 ہفتے قبل