لاہور( سپورٹس ڈیسک) پنجابی فلموں کے عظیم اداکار سلطان راہی کو مداحوں سے بچھڑے تیس برس گزر گئے۔ 80 اور 90 کے عشرے میں فن کے سلطان کہلانے والے راہی نے 700 سے زائد فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے، جن میں 500 میں انہوں نے بطور ہیرو مرکزی کردار ادا کیا، اور عالمی ریکارڈ قائم کیا۔سلطان راہی نے کیریئر کا آغاز ایکسٹرا کے طور پر فلم باغی سے کیا، اور پنجابی فلم بشیرا کی کامیابی نے انہیں سپر اسٹار بنا دیا۔ سلطان راہی اور مصطفی قریشی کی جوڑی کو فلم کی کامیابی کی ضمانت سمجھا جاتا تھا، جبکہ بلاک بسٹرفلم مولا جٹ نے کامیابی کے نئے ریکارڈ قائم کیے۔ان کی دیگر مشہور فلموں میں بابل، سدھا رستہ، شریف بدمعاش، سالا صاحب، چن وریام، اتھرا پتر، پتر جگے دا، ملے گا ظلم دا بدلہ، وحشی جٹ، شیر خان، شعلے، آخری جنگ، جرنیل سنگھ، دو بیگھے زمین اور شیراں دے پتر شامل ہیں۔سلطان راہی نے اپنے فنی کیریئر میں 150 سے زائد ایوارڈز حاصل کیے اور گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں بھی ان کا نام درج ہے۔ انہوں نے اپنی مشہور ساتھی اداکاراؤں آسیہ، انجمن، صائمہ، گوری، نیلی اور بابرہ شریف کے ساتھ بہترین کام کیا۔12 اگست 1981 کو ان کی پانچ فلمیں ایک ہی دن ریلیز ہوئیں، اور ان کے پانچ بچے ہیں جن میں حیدر سلطان بھی اداکاری کی دنیا میں آئے۔ سلطان راہی کے انتقال کے وقت 50 کے قریب فلمیں زیر تکمیل تھیں۔فلم انڈسٹری میں بطور فائٹر شروع ہونے والے سلطان راہی نے عروج کے باوجود فائٹرز کے لیے وظیفہ مقرر رکھا اور دین کے ساتھ گہرا تعلق رکھتے تھے۔ پانچ وقت کے نمازی اور رمضان میں روزے رکھنے والے راہی نے ذاتی سرمائے سے مساجد تعمیر کروائیں اور یتیم بچیوں کی شادی کا اہتمام کیا۔ ایک واقعے کے مطابق بالاکوٹ میں فلم کی شوٹنگ کے دوران انہوں نے ایک بند مسجد کے دروازے کھولے، فرش دھویا اور نماز کی امامت کی۔فن، قربانی اور خدمت خلق کے لیے جانے جانے والے سلطان راہی آج بھی شائقین کے دلوں میں زندہ ہیں۔